تحریر: سیدہ ساجدہ
حوزہ نیوز ایجنسی|
تمہید
انسانی زندگی خوشیوں اور آزمائشوں کا مجموعہ ہے۔ کبھی کامیابیاں انسان کے دروازے پر دستک دیتی ہیں اور کبھی مصیبتیں اس کے صبر، ایمان اور استقامت کو آزماتی ہیں۔ ایسے حالات میں اسلام اپنے ماننے والوں کو دو عظیم نعمتوں کی تعلیم دیتا ہے: صبر اور رضا بالقضا، وہ اوصاف ہیں جو انسان کے دل کو اضطراب سے نجات دے کر سکون، اطمینان اور اللہ تعالیٰ کی قربت عطا کرتے ہیں۔
صبر کا مطلب صرف تکلیف برداشت کرنا نہیں، بلکہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کے حکم پر ثابت قدم رہنا، گناہوں سے بچنا اور مصیبت کے وقت ناشکری اور بے صبری سے اجتناب کرنا ہے۔ اسی طرح رضا بالقضا کا مفہوم یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کے ہر فیصلے کو اس کی حکمت پر اعتماد کرتے ہوئے خوش دلی سے قبول کرے۔
امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:"ایمان کے لیے صبر کی وہی حیثیت ہے جو جسم کے لیے سر کی ہے۔"(نہج البلاغہ، حکمت 82)
یہ فرمان اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ جس طرح سر کے بغیر جسم زندہ نہیں رہ سکتا، اسی طرح صبر کے بغیر ایمان بھی کامل نہیں رہتا۔
قرآن کی روشنی میں صبر و رضا
قرآن کریم نے متعدد مقامات پر صبر کرنے والوں کی فضیلت بیان کی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ."بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔"(سورۂ زمر: 10)
ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے:إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ. "بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔"(سورۂ بقرہ: 153)
یہ آیت مؤمن کو یقین دلاتی ہے کہ اگر وہ صبر اختیار کرے تو اللہ تعالیٰ کی خاص نصرت اور معیت اس کے شاملِ حال ہوگی۔
رضا بالقضا کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ۗ وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ."کوئی مصیبت اللہ کے اذن کے بغیر نہیں آتی، اور جو اللہ پر ایمان رکھتا ہے، اللہ اس کے دل کو ہدایت عطا کرتا ہے۔"(سورۂ تغابن: 11)
یہی ہدایت درحقیقت رضا بالقضا ہے، جس کے ذریعے انسان کا دل اللہ کے فیصلوں پر مطمئن ہو جاتا ہے۔
حضرت ایوب علیہ السلام: صبر کی عظیم مثال
قرآن مجید میں حضرت ایوب علیہ السلام کو صبر و استقامت کی بہترین مثال کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ شدید بیماری، مال و اولاد کی آزمائش اور طویل تکلیف کے باوجود آپؑ نے کبھی اللہ تعالیٰ سے شکوہ نہیں کیا، بلکہ نہایت عاجزی سے دعا کی:
أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ."مجھے تکلیف پہنچ گئی ہے اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔"(سورۂ انبیاء: 83)
اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی، بیماری دور کر دی اور انہیں پہلے سے بڑھ کر نعمتیں عطا فرمائیں۔
پھر ان کے بارے میں فرمایا:إِنَّا وَجَدْنَاهُ صَابِرًا ۚ نِعْمَ الْعَبْدُ ۖ إِنَّهُ أَوَّابٌ."ہم نے انہیں صبر کرنے والا پایا، وہ بہترین بندہ تھا، بے شک وہ بہت رجوع کرنے والا تھا۔"(سورۂ ص: 44)
حضرت ایوبؑ کا واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ صبر کے ساتھ کی گئی دعا کبھی ضائع نہیں جاتی، بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو بہترین اجر عطا فرماتا ہے۔
احادیثِ اہلِ بیتؑ اور نہج البلاغہ کی روشنی میں صبر و رضا
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبر کو مومن کی زندگی کا نور قرار دیا ہے۔ آپؐ فرماتے ہیں: الصَّبْرُ ضِيَاءٌ."صبر روشنی ہے۔"(صحیح مسلم، حدیث 223)
ایک اور حدیث میں آپؐ نے فرمایا:"مومن کا معاملہ بڑا عجیب ہے۔ اگر اسے خوشی ملتی ہے تو شکر کرتا ہے، اور اگر مصیبت پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے، اور دونوں صورتیں اس کے لیے خیر کا باعث ہیں۔"(صحیح مسلم، حدیث 2999)
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:"ایمان کے لیے صبر کی وہی حیثیت ہے جو جسم کے لیے سر کی ہے۔"(الکافی، ج 2، ص 87)
امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:"صبر دو طرح کا ہے: ایک ناپسندیدہ حالات پر صبر، اور دوسرا خواہشات سے رک جانے پر صبر۔(نہج البلاغہ، حکمت 55)
ایک اور مقام پر آپؑ فرماتے ہیں:"جو اللہ کے فیصلے پر راضی ہو جائے، وہ ہمیشہ سکون میں رہتا ہے۔"(مفہومِ نہج البلاغہ)
امام موسیٰ کاظم علیہ السلام فرماتے ہیں:"جو اللہ کی قضا پر راضی ہو گیا، کوئی مخلوق اسے حقیقی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔"(تحف العقول)
یہ تمام فرامین اس حقیقت کی طرف رہنمائی کرتے ہیں کہ صبر اور رضا صرف اخلاقی صفات نہیں، بلکہ ایمان کی روح ہیں۔
کربلا: صبر و رضا کی معراج
اگر صبر کی عملی تفسیر دیکھنی ہو تو کربلا کا رخ کرنا چاہیے۔ امام حسین علیہ السلام نے اپنے اہلِ بیتؑ اور وفادار اصحاب کی شہادت، بھوک، پیاس اور بے شمار مصائب کے باوجود اللہ تعالیٰ کی رضا کو ہر چیز پر مقدم رکھا۔
آپؑ کی زبان پر ہر حال میں اللہ کی حمد اور رضا تھی۔ یہی وجہ ہے کہ عاشورا کا ہر لمحہ صبر، توکل اور رضا بالقضا کا عظیم درس دیتا ہے۔
حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا نے بھی صبر و استقامت کی بے مثال تاریخ رقم کی۔ جب ابن زیاد نے طنزیہ انداز میں پوچھا: "آپ نے اللہ کا فیصلہ کیسا پایا؟" تو آپؑ نے فرمایا: مَا رَأَيْتُ إِلَّا جَمِيلًا. "میں نے خوبصورتی کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔"
یہ صرف ایک جملہ نہیں، بلکہ رضا بالقضا کی بلند ترین منزل کا اظہار ہے۔ حضرت زینبؑ نے ہمیں سکھایا کہ مومن مصیبت میں بھی اللہ کی حکمت اور رحمت پر یقین رکھتا ہے۔
امام حسین علیہ السلام کی پوری زندگی اس آیت کی عملی تفسیر تھی: وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ."صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجیے۔"(سورۂ بقرہ: 155)
علماء کی تشریحات
علامہ مجلسی رحمہ اللہ نے بحار الأنوار میں صبر کی تین اقسام بیان کی ہیں:
- اطاعتِ الٰہی پر صبر
- گناہوں سے بچنے پر صبر
- مصیبتوں پر صبر
ان میں سب سے اعلیٰ درجہ مصیبت پر صبر ہے، کیونکہ یہی انسان کے ایمان کا حقیقی امتحان ہوتا ہے۔
شیخ کلینی رحمہ اللہ نے الکافی میں صبر کے باب میں متعدد روایات نقل کی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کو مال، جان اور اولاد کے ذریعے آزمایا جاتا ہے، اور جو ان آزمائشوں میں ثابت قدم رہتا ہے وہ اللہ کے نزدیک بلند مقام حاصل کرتا ہے۔
علامہ طبرسی رحمہ اللہ نے سورۂ زمر کی آیت "بِغَيْرِ حِسَابٍ" کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ صبر کرنے والوں کے اجر کی کوئی حد مقرر نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ اپنی شانِ کرم کے مطابق انہیں عطا فرمائے گا۔
نفسیات کی روشنی میں صبر اور رضا
جدید نفسیات کے مطابق انسان کی زیادہ تر ذہنی پریشانی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب وہ ان حقائق سے مسلسل لڑتا رہتا ہے جنہیں وہ بدل نہیں سکتا۔ ماہرینِ نفسیات اس کیفیت کو Acceptance (حقیقت کو قبول کرنا) کی اہمیت سے واضح کرتے ہیں۔
اسلام نے چودہ سو سال پہلے اسی حقیقت کو "رضا بالقضا" کے عنوان سے بیان کیا۔ جب بندہ اللہ کے فیصلے پر راضی ہو جاتا ہے تو اس کے دل سے بے چینی، اضطراب اور مایوسی کم ہونے لگتی ہے۔
اسی طرح نفسیات میں Reframing یعنی کسی واقعے کو نئے زاویۂ نگاہ سے دیکھنے کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اسلام بھی یہی سکھاتا ہے کہ مصیبت کو صرف تکلیف نہ سمجھو بلکہ اسے اللہ کی آزمائش، تربیت اور قربِ الٰہی کا ذریعہ سمجھو۔
اس طرزِ فکر سے انسان کی قوتِ برداشت بڑھتی ہے اور وہ مشکلات کا زیادہ حوصلے سے مقابلہ کرتا ہے۔
عملی زندگی میں صبر پیدا کرنے کے طریقے
مصیبت کے وقت فوراً "إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ" پڑھیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا کریں: اللَّهُمَّ ارْضِنِي بِقَضَائِكَ
"اے اللہ! مجھے اپنے فیصلے پر راضی فرما۔"
اپنی نعمتوں پر غور کریں اور ہر حال میں شکر ادا کریں۔
مشکلات کو اللہ کی حکمت اور تربیت کا حصہ سمجھیں۔
قرآن کی تلاوت، ذکرِ الٰہی اور اہلِ بیت علیہم السلام کی سیرت کا مطالعہ اپنی زندگی کا معمول بنائیں۔
خلاصہ
صبر اور رضا مومن کی زندگی کے دو ایسے اوصاف ہیں جو اسے دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی عطا کرتے ہیں۔ قرآن صبر کی بشارت دیتا ہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے روشنی قرار دیتے ہیں، امیرالمؤمنین علیہ السلام اسے ایمان کا ستون فرماتے ہیں، اور کربلا ہمیں اس کی عملی تصویر دکھاتی ہے۔
جب انسان اللہ کے ہر فیصلے پر راضی ہو جاتا ہے تو اس کا دل مطمئن، ذہن پرسکون اور روح اللہ کے قریب ہو جاتی ہے۔ یہی صبر و رضا کی حقیقی منزل ہے۔
دعا
اللہ تعالیٰ ہمیں ہر حال میں صبر، شکر اور رضا بالقضا کی دولت عطا فرمائے، ہمارے دلوں کو اپنے ذکر سے مطمئن رکھے، اور ہمیں امام حسین علیہ السلام، حضرت زینب سلام اللہ علیہا اور اہلِ بیت علیہم السلام کی سیرت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔









آپ کا تبصرہ